نئی دہلی، 05 اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کاروں کی فروخت میں مسلسل جاری کمی سے آٹو سیکٹر کی حالت پتلی ہوتی جا رہی ہے اور چھانٹ کا دور شروع ہو گیا ہے۔گزشتہ تین ماہ میں آٹو انڈسٹری سے تقریبا دو لاکھ لوگوں کو روزگار سے نکالا گیا ہے۔فیڈریشن آف آٹوموبائل ڈیلروں ایسوسی ایشن (فاڈا) کے مطابق، ہندوستان میں گزشتہ تین ماہ کے دوران آٹوموبائل ڈیلرشپ اسٹورز سے دو لاکھ لوگوں کو روزگار سے نکالا گیا ہے۔فاڈا کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگلے چند ماہ میں اس رجحان کو بہتر ہونے کی گنجائش نہیں دکھ رہی ہے۔اس سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری بڑھے گی۔فاڈا نے کہا کہ حکومت کو جی ایس ٹی میں کمی جیسے فوری اقدامات کر آٹو سیکٹر کو راحت دینی چاہیے۔فاڈا صدر آشیش ہرشراج کالا نے کہا کہ آٹو سیکٹر کی ملازمتوں میں چھانٹ کا دور مئی میں شروع ہوا تھا، جو جون اور جولائی ماہ میں بھی جاری رہا۔کالا نے بتایا کہ زیادہ تر ملازمتوں کی کٹوتی سیلز سیکٹر میں ہوئی ہیں۔ایسے میں اگر گاڑیوں کی فروخت میں کمی کا دور آگے بھی جاری رہتا ہے، تو نہ صرف سیلز بلکہ ٹیکنیکل نوکریاں جانے کا خطرہ بڑھ جائے گا کیونکہ سیل کم ہونے پر سروس بھی کم آئے گی۔آشیش نے بتایا کہ ملک میں قریب 15 ہزار ڈیلروں کے 26 ہزار آٹوموبائل شوروم ہیں۔اس میں تقریبا 25 لاکھ لوگ سیدھے طور سے کام کر رہے ہیں، جبکہ 25 افراد بالواسطہ طور پر منسلک ہیں،مطلب آٹوموبائل شورم ملک کے تقریبا 50 لاکھ لوگوں کو روزگار دے رہے ہیں۔کالا نے کہاکہ ہمارے ارکان نے اب تک زیادہ تر ڈیلرشپ میں ملازمتوں میں 7 سے 8 فیصد تک کی کمی کر دی ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ فروخت میں کمی بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں بھی ملک کے 271 شہروں میں 286 شوروم بند ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے 32000 لوگ بے روزگار ہو گئے تھے۔غور طلب ہے کہ سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (ایس آئی اے ایم) کے اعداد و شمار کے مطابق، اپریل سے جون کی سہ ماہی میں تمام طبقہ میں گاڑیوں کی فروخت میں 12.35 فیصد کی کمی آئی ہے اور صرف 6085406 گاڑیاں بکی ہیں جبکہ ایک سال قبل اسی مدت میں 6942742 گاڑیاں بکی تھیں۔